اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا ایٹمی معاہدہ ایک بدترین معاہدہ ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعوی ایسی حالت میں کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی زیرصدارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تشکیل پانے والے اجلاس میں اس کونسل کے چودہ رکن ملکوں نے ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کی اور اسے جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف پابندیوں پر مغربی ملکوں کی حمایت کی امید کے ساتھ دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارت یا امریکہ کے ساتھ تجارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
انھوں نے یہ دھمکی آمیز لہجہ ایسی صورت میں اختیار کیا کہ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بدھ کے روز نیویارک میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت میں سہولیات فراہم کرنے کے لئے یورپی یونین کے منصوبے پر نومبر میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے قبل عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں شمالی کوریا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے نہتھا کرنے کے سلسلے میں وہ کوئی وقت معین نہیں کرنا چاہتے اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ کام دو، تین یا پانچ سال میں انجام پائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو شمالی کوریا کے ساتھ جنگ ہو جاتی اور لاکھوں افراد مارے جاتے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اسی طرح مسئلہ فلسطین پر گفتگو کی اور غاصب صیہونی حکومت کی طرفداری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل و فلسطین تنازعہ کے خاتمے کے لئے دو حکومتوں کے قیام کا حل زیادہ متوقع ہے تاہم وہ ایک ہی حکومت کے راہ حل کے حامی ہیں۔
ٹرمپ نے چین کے خلاف بھی اپنے دعوے کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی یہ دعوی بھی کر دیا کہ ان کے پاس امریکی انتخابات میں چین کی مداخلت سے متعلق ثبوت و شواہد موجود ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایسی حالت میں یہ کانفرنس کی کہ منگل کے روز جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اپنی حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں ڈینگیں مار رہے تھے اور شیخیاں بگھار رہے تھے تو اجلاس میں شریک مختلف ملکوں کے سربراہوں نے ان کا مزاق اڑاتے ہوئے قہقہے لگا دیئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲